URDUKIDS TAABIIR
TEXT BOOK EXPLANATION
پھولوں کی مہک
پھولوں کی مہک
اپنا گھر پیارا لگتا
1) ننھی چڑیا کو روتے دیکھ کر بلو نے کیا سوچا؟
2) “ ہمیں اپنا ہی گھر پیارا لگتا ہے” — ننھی چڑیا ایسا کیوں کہتی ہے؟
۱) بلو نے سوچا کہ ننھی چڑیا کو گھر لے جانا چاہیے۔
۲) کیونکہ ننھی چڑیا کو اپنا گھر اچھا لگتا ہے۔
کہانی اپنا گھر پیارا لگتا ہے آپ کو کیسی لگی؟ آئیے، اس کہانی کو رول پلے کے ذریعے پیش کریں۔
رول پلے (مکالمہ):
آواز: چھل... چھل...
شنو: ارے! وہ دیکھو گلہری۔ میں اسے پکڑتا ہوں۔
شانی: نہیں شنو! مت پکڑو۔ اسے جانے دو۔ آؤ کہانی سنتے ہیں۔
چڑیا: چوں... چوں...
نیلو: دیکھو! دو پیاری چڑیاں۔
بلو: آؤ، انہیں اپنے گھر لے چلیں۔ وہاں نرم بستر پر سلائیں گے۔
چڑیا: نہیں، نہیں! ہمیں مت پکڑو۔ ہمیں اپنا گھر پیارا لگتا ہے۔
نیلو: ٹھیک ہے۔ تم اپنے گھر میں رہو۔
سب مل کر: اپنا گھر سب سے پیارا!
بچو! ننھی چڑیا اور امی چڑیا کی گفتگو کے مطابق پردے میں سجے اور جملے لکھیے۔
• ننھی چڑیا: امی! امی!!
• امی چڑیا: کیا بات ہے بیٹی؟
• ننھی چڑیا: امی! مجھے بھوک لگی ہے۔
• امی چڑیا: یہ لو بیٹی، دانا کھا لو۔
• ننھی چڑیا: امی! دانا بہت اچھا ہے۔
• امی چڑیا: ہاں بیٹی! یہ تازہ دانا ہے۔
• ننھی چڑیا: امی! مجھے پانی پینا ہے۔
• امی چڑیا: یہ لو، پانی بھی پی لو۔
• ننھی چڑیا: امی! اب مجھے نیند آئی۔
• امی چڑیا: آ جاؤ، میرے پاس سو جاؤ۔
• ننھی چڑیا: شب بخیر پیاری امی۔
• امی چڑیا: شب بخیر میری بیٹی۔
۱) چیونٹیاں مٹھائی کھا رہی ہیں۔
۲) پیڑ کے نیچے بلی ہے۔
۳) بلی نے مٹھائی چھین لی۔
۴) چیونٹیاں بلی کو دیکھ رہی تھیں۔
خلاصہ: ایک دن کچھ چیونٹیاں مٹھائی لائیں... (کوّے نے ان کی مدد کی اور مٹھائی واپس دلائی)۔
۱. بھنورے پھولوں کا رس کیوں پیتے ہیں؟
۲. تالاب کا پانی کیسا ہے؟
ٹھنڈی ٹھنڈی: آج ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا ہے۔
لہلہانا: کھیت میں فصلیں لہلہا رہی ہیں۔
منڈلانا: آسمان پر بادل منڈلا رہے ہیں۔
چہچہانا: چڑیاں چہچہا رہی ہیں۔
بھنبھنانا: مچھر بھنبھنا رہا ہے۔