URDUKIDS TAABIIR
TEXT BOOK QUESTIONS
پھولوں کی مہک
۱. بھنورے پھولوں کا رس کیوں پیتے ہیں؟
۲. تالاب کا پانی کیسا ہے؟
ٹھنڈی ٹھنڈی: آج ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا ہے۔
لہلہانا: کھیت میں فصلیں لہلہا رہی ہیں۔
منڈلانا: آسمان پر بادل منڈلا رہے ہیں۔
چہچہانا: چڑیاں چہچہا رہی ہیں۔
بھنبھنانا: مچھر بھنبھنا رہا ہے۔
- دھنک کا پہلا رنگ لال ہے۔
- دھنک کا دوسرا رنگ نارنگی ہے۔
- دھنک کا تیسرا رنگ پیلا ہے۔
- دھنک کا چوتھا رنگ ہرا ہے۔
- دھنک کا پانچواں رنگ نیلا ہے۔
- دھنک کا چھٹا رنگ اودا ہے۔
- دھنک کا ساتواں رنگ بینگنی ہے۔
URDUKIDS TAABIIR
TEXT BOOK QUESTIONS
اپنا گھر پیارا لگتا
سرگرمی ۱
1) ننھی چڑیا کو روتے دیکھ کر بلو نے کیا سوچا؟
2) “ ہمیں اپنا ہی گھر پیارا لگتا ہے” — ننھی چڑیا ایسا کیوں کہتی ہے؟
۱) بلو نے سوچا کہ ننھی چڑیا کو گھر لے جانا چاہیے۔
۲) کیونکہ ننھی چڑیا کو اپنا گھر اچھا لگتا ہے۔
سرگرمی ۲
- سانپ بل میں رہتا ہے۔
- چڑیا گھونسلے میں رہتی ہے۔
- مرغی ڈربے میں رہتی ہے۔
- گائے طویلہ میں رہتا ہے۔
سرگرمی ۳
کہانی اپنا گھر پیارا لگتا ہے آپ کو کیسی لگی؟ آئیے، اس کہانی کو رول پلے کے ذریعے پیش کریں۔
رول پلے (مکالمہ):
آواز: چھل... چھل...
شنو: ارے! وہ دیکھو گلہری۔ میں اسے پکڑتا ہوں۔
شانی: نہیں شنو! مت پکڑو۔ اسے جانے دو۔ آؤ کہانی سنتے ہیں۔
چڑیا: چوں... چوں...
نیلو: دیکھو! دو پیاری چڑیاں۔
بلو: آؤ، انہیں اپنے گھر لے چلیں۔ وہاں نرم بستر پر سلائیں گے۔
چڑیا: نہیں، نہیں! ہمیں مت پکڑو۔ ہمیں اپنا گھر پیارا لگتا ہے۔
نیلو: ٹھیک ہے۔ تم اپنے گھر میں رہو۔
سب مل کر: اپنا گھر سب سے پیارا!
سرگرمی ۴
بچو! ننھی چڑیا اور امی چڑیا کی گفتگو کے مطابق پردے میں سجے اور جملے لکھیے۔
• ننھی چڑیا: امی! امی!!
• امی چڑیا: کیا بات ہے بیٹی؟
• ننھی چڑیا: امی! مجھے بھوک لگی ہے۔
• امی چڑیا: یہ لو بیٹی، دانا کھا لو۔
• ننھی چڑیا: امی! دانا بہت اچھا ہے۔
• امی چڑیا: ہاں بیٹی! یہ تازہ دانا ہے۔
• ننھی چڑیا: امی! مجھے پانی پینا ہے۔
• امی چڑیا: یہ لو، پانی بھی پی لو۔
• ننھی چڑیا: امی! اب مجھے نیند آئی۔
• امی چڑیا: آ جاؤ، میرے پاس سو جاؤ۔
• ننھی چڑیا: شب بخیر پیاری امی۔
• امی چڑیا: شب بخیر میری بیٹی۔
سرگرمی ۵
- کہانی کہاں کی ہے؟
- ندی کے کنارے کیا تھا؟
- پیڑ پر کون رہتا تھا؟
- نیچے کون رہتی تھی؟
- کبوترا اور چیونٹی کیسے دوست تھے؟
سرگرمی ۶
۱) چیونٹیاں مٹھائی کھا رہی ہیں۔
۲) پیڑ کے نیچے بلی ہے۔
۳) بلی نے مٹھائی چھین لی۔
۴) چیونٹیاں بلی کو دیکھ رہی تھیں۔
خلاصہ: ایک دن کچھ چیونٹیاں مٹھائی لائیں... (کوّے نے ان کی مدد کی اور مٹھائی واپس دلائی)۔
URDUKIDS TAABIIR
TEXT BOOK QUESTIONS
اپنا گھر پیارا لگتا
سرگرمی ۱
1) ننھی چڑیا کو روتے دیکھ کر بلو نے کیا سوچا؟
2) “ ہمیں اپنا ہی گھر پیارا لگتا ہے” — ننھی چڑیا ایسا کیوں کہتی ہے؟
۱) بلو نے سوچا کہ ننھی چڑیا کو گھر لے جانا چاہیے۔
۲) کیونکہ ننھی چڑیا کو اپنا گھر اچھا لگتا ہے۔
سرگرمی ۲
- سانپ بل میں رہتا ہے۔
- چڑیا گھونسلے میں رہتی ہے۔
- مرغی ڈربے میں رہتی ہے۔
- گائے طویلہ میں رہتا ہے۔
سرگرمی ۳
کہانی اپنا گھر پیارا لگتا ہے آپ کو کیسی لگی؟ آئیے، اس کہانی کو رول پلے کے ذریعے پیش کریں۔
رول پلے (مکالمہ):
آواز: چھل... چھل...
شنو: ارے! وہ دیکھو گلہری۔ میں اسے پکڑتا ہوں۔
شانی: نہیں شنو! مت پکڑو۔ اسے جانے دو۔ آؤ کہانی سنتے ہیں۔
چڑیا: چوں... چوں...
نیلو: دیکھو! دو پیاری چڑیاں۔
بلو: آؤ، انہیں اپنے گھر لے چلیں۔ وہاں نرم بستر پر سلائیں گے۔
چڑیا: نہیں، نہیں! ہمیں مت پکڑو۔ ہمیں اپنا گھر پیارا لگتا ہے۔
نیلو: ٹھیک ہے۔ تم اپنے گھر میں رہو۔
سب مل کر: اپنا گھر سب سے پیارا!
سرگرمی ۴
بچو! ننھی چڑیا اور امی چڑیا کی گفتگو کے مطابق پردے میں سجے اور جملے لکھیے۔
• ننھی چڑیا: امی! امی!!
• امی چڑیا: کیا بات ہے بیٹی؟
• ننھی چڑیا: امی! مجھے بھوک لگی ہے۔
• امی چڑیا: یہ لو بیٹی، دانا کھا لو۔
• ننھی چڑیا: امی! دانا بہت اچھا ہے۔
• امی چڑیا: ہاں بیٹی! یہ تازہ دانا ہے۔
• ننھی چڑیا: امی! مجھے پانی پینا ہے۔
• امی چڑیا: یہ لو، پانی بھی پی لو۔
• ننھی چڑیا: امی! اب مجھے نیند آئی۔
• امی چڑیا: آ جاؤ، میرے پاس سو جاؤ۔
• ننھی چڑیا: شب بخیر پیاری امی۔
• امی چڑیا: شب بخیر میری بیٹی۔
سرگرمی ۵
- کہانی کہاں کی ہے؟
- ندی کے کنارے کیا تھا؟
- پیڑ پر کون رہتا تھا؟
- نیچے کون رہتی تھی؟
- کبوترا اور چیونٹی کیسے دوست تھے؟
سرگرمی ۶
۱) چیونٹیاں مٹھائی کھا رہی ہیں۔
۲) پیڑ کے نیچے بلی ہے۔
۳) بلی نے مٹھائی چھین لی۔
۴) چیونٹیاں بلی کو دیکھ رہی تھیں۔
خلاصہ: ایک دن کچھ چیونٹیاں مٹھائی لائیں... (کوّے نے ان کی مدد کی اور مٹھائی واپس دلائی)۔
URDUKIDS TAABIIR
TEXT BOOK WORK SHEET
آپ کے انتظار میں
۱) جمیل کس مقابلے میں اوّل آیا؟
۲) جمیل نے بھائی جان کے نام خط کیوں لکھا؟
۱) جمیل نظم خوانی کے مقابلے میں اوّل آیا۔
۲) جمیل نے بھائی جان کو اپنی کامیابی (مقابلے میں اول آنے) کی خوش خبری دینے کے لیے خط لکھا۔
ڈاکیہ, ڈاک گھر, لفافہ, ڈاک ٹکٹ, ڈاک مہر, ڈاک باکس
- ڈاکیہ خط لاتا ہے۔
- لفافہ کے اندر خط ہے۔
- ڈاک مہر لفافہ پر لگاتا ہے۔
- ڈاک ٹکٹ لفافہ پر لگاتا ہے۔
- خط ڈاک باکس میں پوسٹ کرتا ہے۔
جمیل: آداب سر!
پوسٹ ماسٹر: آداب بیٹا! کیا چاہیے؟
جمیل: سر! مجھے خط پوسٹ کرنا ہے۔
پوسٹ ماسٹر: بہت اچھا بیٹا! ٹکٹ لگایا ہے؟
جمیل: جی سر! میں نے ٹکٹ لگا دیا ہے۔
پوسٹ ماسٹر: شاباش! اب اسے اس ڈبے میں ڈال دو۔
جمیل: شکریہ سر!
پوسٹ ماسٹر: خوش رہو بیٹا!
URDUKIDS TAABIIR
TEXT BOOK WORK SHEET
ہوائی جہاز
ہدایت: نظم ’ہوائی جہاز‘ غور سے پڑھیں اور سوالوں کے جواب دیں۔
جواب: کیونکہ یہ لوہے کا بنا ہے اور چیل (پرندے) کی طرح اڑتا ہے۔
جواب: جیسے پانی میں کشتی چلتی ہے۔
- سائیکل کتنی پیاری ہے۔
- یہ سواری دیتی ہے۔
- اس میں گھنٹی ہے۔
- یہ پیڈل سے چلتی ہے۔
- یہ بریک سے رکتی ہے۔
URDUKIDS TAABIIR
TEXT BOOK WORK SHEET
خون کا عطیہ
سرگرمی ۱
بچو! ’گفتگو‘ خون کا عطیہ’ غور سے پڑھیں اور سوالوں کے جواب لکھیں۔
۱) خون کا عطیہ کرنا ضروری ہے۔ کیوں؟
دوسروں کی جان بچانے کے لیے۔ (یہ ہماری صحت کے لیے بھی اچھا ہے)۔
۲) خون کا عطیہ کون کون کر سکتے ہیں؟
مرد اور عورتیں دونوں خون کا عطیہ کر سکتے ہیں۔
سرگرمی ۲
دادا جان: جمیل بیٹے! آپ دونوں کہاں گئے تھے؟
جمیل: ہم اسپتال گئے تھے۔ ابّا جان نے خون دیا ہے۔
دادا جان: بہت خوب! کس کو خون دیا؟
جمیل: ابّا جان کے دوست واسو دیو کو۔
دادا جان: یہ تو بہت نیک کام ہے۔
جمیل: جی ہاں! اس سے جان بچتی ہے۔
دادا جان: کیا تم نے بھی خون دیا؟
جمیل: نہیں، میں ابھی چھوٹا ہوں۔ بڑا ہو کر دوں گا۔
URDUKIDS TAABIIR
TEXT BOOK WORK SHEET
پانی انمول ہے
بچو! کہانی ’پانی انمول ہے‘ پڑھیں اور سوالوں کے جواب لکھیں۔
۱) ”جناب ! یہ رہا پانی۔ ایک گلاس سے زیادہ مت پینا“، چوکی دار ایسا کیوں کہتا ہے؟
۲) گاؤں والوں نے ناراین کا شکریہ ادا کیا۔ کیوں؟
۳) بچو! پانی ہمیں کہاں کہاں سے ملتا ہے؟ لکھیے۔
جواب ۱: کیونکہ پینے کا پانی چار کلومیٹر دور سے لانا پڑتا تھا۔
جواب ۲: کیونکہ ناراین نے گاؤں کا گندا تالاب صاف کیا تھا۔
جواب ۳: ہمیں پانی بارش، ندی، تالاب اور کنویں سے ملتا ہے۔
چوکی دار: کیا بات ہے؟
نارائن: بھائی! تھوڑا پانی پلا دیں۔
چوکی دار: یہ لیں پانی، لیکن صرف ایک گلاس پینا۔ پانی بہت دور سے لانا پڑتا ہے۔
نارائن: آپ گاؤں کے تالاب کا پانی کیوں نہیں پیتے؟
چوکی دار: وہ پانی گندا ہے۔ اسے پینے سے لوگ بیمار ہو جاتے ہیں۔
نارائن: تو پھر ہمیں مل کر تالاب صاف کرنا چاہیے۔
- پانی انمول ہے۔
- پانی نہیں تو ہم نہیں۔
- ہر جانداروں کو جینے کے لیے پانی کی ضرورت ہے۔
- پانی کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔
- پانی کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔
- پانی کا صحیح استعمال کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔
ویڈیو دیکھ کر امرناتھ بہت اداس ہوا اور رونے لگا۔
اس نے اپنی ٹیچر سے کہا، "میں اب پانی کبھی خراب نہیں کروں گا!"
پھر وہ جلدی سے اپنے گھر گیا۔
اس نے اپنی امی سے کہا، "امی جان! میں اب نل کھلا نہیں چھوڑوں گا۔"
اس کے بعد سے امرناتھ نے پانی بچانا شروع کر دیا اور نہانے کے لیے بالٹی کا استعمال کرنے لگا۔
اب وہ سب کا پیارا اور بہت اچھا بچہ بن گیا ہے۔
- یہ میری کتاب ہے۔
- یہ میرا بستہ ہے۔
- یہ میرا اسکول ہے۔
- یہ میرے ابا ہیں۔
- یہ میرے استاد ہیں۔





















