URDUKIDS TAABIIR
TEXT BOOK WORK SHEET
پانی انمول ہے
بچو! کہانی ’پانی انمول ہے‘ پڑھیں اور سوالوں کے جواب لکھیں۔
۱) ”جناب ! یہ رہا پانی۔ ایک گلاس سے زیادہ مت پینا“، چوکی دار ایسا کیوں کہتا ہے؟
۲) گاؤں والوں نے ناراین کا شکریہ ادا کیا۔ کیوں؟
۳) بچو! پانی ہمیں کہاں کہاں سے ملتا ہے؟ لکھیے۔
جواب ۱: کیونکہ پینے کا پانی چار کلومیٹر دور سے لانا پڑتا تھا۔
جواب ۲: کیونکہ ناراین نے گاؤں کا گندا تالاب صاف کیا تھا۔
جواب ۳: ہمیں پانی بارش، ندی، تالاب اور کنویں سے ملتا ہے۔
چوکی دار: کیا بات ہے؟
نارائن: بھائی! تھوڑا پانی پلا دیں۔
چوکی دار: یہ لیں پانی، لیکن صرف ایک گلاس پینا۔ پانی بہت دور سے لانا پڑتا ہے۔
نارائن: آپ گاؤں کے تالاب کا پانی کیوں نہیں پیتے؟
چوکی دار: وہ پانی گندا ہے۔ اسے پینے سے لوگ بیمار ہو جاتے ہیں۔
نارائن: تو پھر ہمیں مل کر تالاب صاف کرنا چاہیے۔
- پانی انمول ہے۔
- پانی نہیں تو ہم نہیں۔
- ہر جانداروں کو جینے کے لیے پانی کی ضرورت ہے۔
- پانی کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔
- پانی کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔
- پانی کا صحیح استعمال کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔
ویڈیو دیکھ کر امرناتھ بہت اداس ہوا اور رونے لگا۔
اس نے اپنی ٹیچر سے کہا، "میں اب پانی کبھی خراب نہیں کروں گا!"
پھر وہ جلدی سے اپنے گھر گیا۔
اس نے اپنی امی سے کہا، "امی جان! میں اب نل کھلا نہیں چھوڑوں گا۔"
اس کے بعد سے امرناتھ نے پانی بچانا شروع کر دیا اور نہانے کے لیے بالٹی کا استعمال کرنے لگا۔
اب وہ سب کا پیارا اور بہت اچھا بچہ بن گیا ہے۔
- یہ میری کتاب ہے۔
- یہ میرا بستہ ہے۔
- یہ میرا اسکول ہے۔
- یہ میرے ابا ہیں۔
- یہ میرے استاد ہیں۔
